sahil is the online Urdu magazine user can access and read free content on different subjects including philosophy, sociology, political and theology

Sahil Maghzine

ہفتہ، 20 جون، 2020

علامہ محمد اقبال, عربی زبان اور علماء

alama iqbal critics islamic scholars


علامہ محمد اقبال اور عربی زبان پر عبور

اقبال مرحوم نے بتایا تھا کہ وہ باز مقامی علماء سے عربی کتب کا متن پڑھوا کر سنتے ہیں پھر وہ علماء ان عبارتوں کا ترجمہ و تشریح کر دیتے ہیں، پھر اقبال ان کی سماعت کے بعد سوالات درس کے ذریعے ان مباحث و مسائل کو سمجھنے 
کی سعی فرماتے ہیں،

لیکن ان علماء کا مغربی فلسفے سے کوئی تعلق نہیں تھا اور وہ اقبال مرحوم کے فلسفیانہ سوالات کے تسلی بخش جوابات دینے کی اہلیت بھی نہ رکھتے تھے کیونکہ وہ فلسفیانہ مباحث سے واقف نہ تھے لاہور کے ایک عالم فاضل مولانا غلام مرشد سے بھی ان کے استفادے کی اطلاع ملی تھی، مگر مرشد صاحب خود مغرب سے شدید طور پر متاثر ہیں ان کے بعد از بیانات اور درس کی تفصیلات بہت افسوسناک ہیں لاہور کے علمی حلقوں میں ان کی شہرت بھی اچھی نہیں تھی ماجد صاحب کی تنقید کے بعد اقبال نے خطبات کا ارادہ ترک کر دیا تھا انہیں احساس ہو گیا کہ یہ مباحث اس قدر سادہ نہیں کہ انھیں امہات کتب کے تراجم کی سماعت کے ذریعے طے کر دیا جائے۔ غالباً کسی بیان میں اقبال نے یہ کہا ہے کہ میں Islam as I understand it کے نام سے کتاب لکھ رہا ہوں وہ تمہید الفرقان کے نام سے تعارف قرآن لکھنے کا ارادہ بھی رکھتے تھے لیکن اس کا سراغ نہیں ملا ۔ میرے خیال میں خطبات اقبال کا نام اگر تبدیل کر دیا جائے بلکہ خطبات اقبال کا بہترین نام میری نظر میں Islam as I understand it ہونا چاہیے کیونکہ خطبات میں صرف وہی کچھ پیش کیا گیا ہے جو اقبال سمجھتے تھے خود اسلام کو علومِ اسلامی، علمائے اسلام اور تعامل امت کے ذریعے سمجھنے کی روایت اقبال نے ترک کردی لہذا قدم قدم پر ٹھوکر کھائی، اسلام کو ذات رسالت مآب اور صحابہ کرام کی سیرت اور اجماعِ اُمت کے بغیر محض اپنی خودی اور عقل کے بل پر سمجھنا ممکن ہی نہیں ہے، ماجد صاحب کے خط نے اقبال مرحوم کی ہمت شکستہ کر دی تھی انہوں نے اس تنقید کی روشنی میں خطبات میں بہت سی ترامیم کی تغیر ات کیئے ،نظر ثانی کا یہ سلسلہ کئی مہینوں تک چلا لیکن ما جد صاحب کی خواہش کے باوجود اقبال مرحوم نے انہیں نظر ثانی شدہ مسودہ ارسال نہیں کیا انہیں پتہ تھا کہ ماجد صاحب اس سے بھی مطمئن نہ ہوں گے مجھے یہ مسودہ ارسال کیا گیا تھا اس پر میرے کچھ تحفظات تھے اور تنقید بھی اقبال مرحوم کو قلق تھا کہ علماء نے ان کے خطبات کا خیر مقدم نہیں کیا وہ علماء کی طاقت سے بخوبی واقف تھے مجھے اور تن تنہاان سے مقابلے کی سکت نہ پاتے تھے۔ انہیں ملال تھا کہ سر سید نے علماء کا جو اثر کم کر دیا تھا وہ خلافت کمیٹی کی سیاست کے باعث دوبارہ بحال ہوگیا ہے اور اسی اثر سے وہ خائف تھے ماجد صاحب کی تنقید نے اقبال مرحوم کو بہت محتاط بنا دیا تھا یہ اللہ تعالی کا خاص احسان ہے ورنہ اقبال مرحوم جیسے قیمتی شخص کے قلم سے دشمنان اسلام کو بہت مہمیز مل سکتی تھی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں