sahil is the online Urdu magazine user can access and read free content on different subjects including philosophy, sociology, political and theology

Sahil Maghzine

اتوار، 21 جون، 2020

اقبال مرحوم اور کانٹ دوامی امور ہنگامی امور(Alama Iqbal Emmanuel kant)

iqbal kant philosophy reality


علامہ اقبال کا نظریائے حقیقت متعلقہ۔  (Theory of absolute reality)

ماڈرن ازم کے آغاز میں مغرب کا دعوی تھا کہ حقیقت پہچاننے کے لئے انسان خود کفیل ہے۔
اسے وہ صلاحیتیں حاصل ہیں جس سے وہ حقیقت متعلقہ یعنی ریئلٹی تک رسائی حاصل کر سکتا ہے- اقبال اس دعوے کی تصدیق کرتے ہیں کہ جبکہ کانٹ اس دعوے کی تردید کرتا ہے جو مغرب کا سب سے بڑا فلسفی اور ماڈرن ازم کے بنیادی فلسفی ہے - کیا اقبال کانٹ سے بڑے فلسفی تھے اور مغرب کو مغرب سے زیادہ بہتر جانتے تھے یا مغربی فلسفے پر کانٹ سے زیادہ عبور رکھتے تھے ، جس دعوے کا انکار کانٹ نے اور اس کے بعد تمام اہل مغرب نے کیا اقبال اس کو تسلیم نہیں کرتے۔ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ کانٹ نے ثابت کر دیا کہ دوامی امور کا علم یعنی حقیقت مطلقہ تک رسائی ممکن نہیں۔ انسان صرف ہنگامی امور کا علم حاصل کر سکتا ہے یعنی انسان علوم نقلیہ کا، اس بات کی تردید سائنس سے حواس سے، تجربات سےثابت نہیں کر سکتا کیونکہ یہ انسان کے دائرہ حواس اور تجربات سے ماوراء ہیں۔ صرف علوم عقلیہ کی تائید یا تردید کی جاسکتی ہے اور یہی اصل علم ہے بعض مغربی فلسفیوں اور سائنسدانوں کی زبان میں جس علم کو ریاضی کی زبان میں یعنی دو اور دو چار کی طرح بیان نہیں کیا جا سکے وہ علم ہی نہیں ہے۔ جبکہ سائنس کے بے شمار نظریات مفروضات پر قائم ہیں ، انہیں ابھی دو اور دو چار کی طرح بیان نہیں کیا جاسکتا ہے سائنس آج تک مادہ کی تعریف بیان نہیں کر سکی کہ یہ ہے کیا ؟ اگر عقل، فلسفہ اور سائنس کے ذریعے حقیقت متعلقہ تک رسائی حاصل ہو سکتی تو فلسفہ کی ڈھائی ہزار سالہ تاریخ میں آج تک کسی ایک فلسفی سائنسدان کو حتی کہ ارسطو کو بھی حقیقت متعلقہ تک رسائی کیوں حاصل نہ ہو سکی اگر بالفرض کسی کو آج تک رسائی حاصل ہو جائے تو اصل یہ عقل کا کمال ہوگا اور یہ عقل اس شخص واحد کی ہوگی اور حقیقت متعلقہ کی تائید و توثیق ایک شخص کی عقل کرے گی یعنی حقیقت متعلقہ محتاج ہے اپنی مخلوق کی تصدیق کی، یعنی اصل حقیقت مطلقہ عقل انسانی ہوئی۔ 

اقبال کے یہاں انسان کی لامحدود صلاحیتوں کی وسعت کے امکانات خودی کے جذبے کے ذریعے دریافت ہوتے رہتے ہیں ۔ فلسفہ خودی...... میں اور میری ذات کہ اسرارِ حقیقت مجھ میں مضمر ہیں لہٰذا حقیقت ماروائے ذات نہیں رہتی۔  اقبال کے خطبات میں حقیقت متعلقہ خود انسان اور انسان کی عقل اور سائنس بن جاتی ہے یعنی حقیقت پیدا کی جارہی ہے کہ تخیئل اور تصور اور تجربے کے ذریعے یا ان ذرائع سے اس کی تصدیق کی جا رہی ہے جبکہ حقیقت قائم بالذات ہوتی ہے نہ یہ تخلیق ہوتی ہے نہ فنا ہوتی ہے کوئی اسے مانے یا نہ مانے وہ حقیقت ہوتی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں