sahil is the online Urdu magazine user can access and read free content on different subjects including philosophy, sociology, political and theology

Sahil Maghzine

ہفتہ، 20 جون، 2020

اقبال مرحوم پر افغانی کا اثر impact of jamal ud din afghani on alama iqbal

جمال الدین افغانی jama ud deen afghani


اقبال مرحوم پر افغانی کا اثر

جمال الدین افغانی کے خیالات میں حقیقت کی تلاش اور اس کے اظہار میں نبوت اور فلسفہ ایک ہی طرح کام کرتا ہے، اقبال مرحوم نے افغانی کی فکر میں ترمیم کرکے یہاں فلسفے کو سائنس سے بدل دیا فلسفہ کم از کم مابعد الطبیعاتی سوالات سے بحث تو کرتا ہے حقیقت کی تلاش اس کا موضوع تو ہے گو کہ اس کی تلاش کا ذریعہ صرف عقل ہے دوسرے لفظوں میں حق فرد میں محصور ہے۔ فرد بتا سکتا ہے کہ حق ہے کیا باطل ہے یعنی عقل کو فوقیت دے دی گئی تمام ذرائع علم پر لیکن سائنس تو حقیقت کے سوال سے بحث ہی نہیں کرتی اس کا مابعدالطبعیاتی سوالات سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے اس نے حقیقت کو پانے کا کبھی دعویٰ ہی نہیں کیا ۔ سائنس کی تاریخ تجربات سے تو عبارت ہے لیکن حقیقت مطلق تک رسائی کبھی اس کا موضوع نہیں رہا قدیم سائنس کو کسی حد تک مستثنیٰ قرار دیا جاسکتا ہے، کیونکہ وہ فلسفے سے راست منسلک تھی لیکن جدید سائنس تو اپنی نام۔نہاد میں الحاد ہے اس سے مذھب کی تائید و تصدیق کی خواہش بڑی عجیب بات ہے، اقبال مرحوم جیسے شخص سے اس خواہش کا صدور بہرحال ہوا ہے۔ 

مذھب سائنس کا محتاج ہے

روحانیت کے سلسلے میں اسلام نے جو کچھ پیش کیا ہے اس کی مثال دنیا کے کسی مذھب میں نہیں ملتی اس معاملے میں ہم بہت مالا مال ہیں اس میں کچھ رطب دیا بس بھی ہے لیکن اس سے قطع نظر بہت کچھ قیمتی سامان بھی مل جاتا ہے جس پر فخر کیا جاسکتا ہے ماجد صاحب کا خیال تو یہ تھا کہ اقبال مرحوم خطبات لکھنے کے زمانے میں مغربی فلسفے کے جدید انداز سے واقف نہ تھے سیاسی مصروفیات اور وکالت اور شاعری کے بعد وقت کہاں ملتا ہوگا لہذا مغربی فلسفے کے بدلتے ہوئے جدید رجحانات تک انکی رسائی نہ تھی ۔ جو کچھ وہ پہلے پڑھ چکے تھے اس پر ان کے علم کا مدار تھا ورنہ ممکن تھا کہ خطبات میں بہت سے خیالات سے رجوع کرلیتے ، مذھب کی تائید و تو ثییق کے لیئے سائنسی افکار سے استدلال ایک مغالطہ پیدا کرتا ہے کہ ایک دوامی چیز کی تائید غیر دوامی ہنگامی شے سے کیسے کی جاسکتی ہے دوسرے لفظوں میں سائنس کی بنیاد عقل اور محسوسات و تجربات ہیں یعنی مذھب کو پرکھنے جانچنے کی بنیاد ہماری عقل اور ہمارے محسوسات ہوگئے یعنی حق مذھب نہیں بذاتِ خود ہم ہیں حق کسی کی تائید اور خارجی توثیق کا محتاج نہیں وہ اول و آخر حق ہے چاھے اسے کوئی تسلیم کرے یا نہیں۔ اللہ تعالیٰ کسی کی تصدیق کا محتاج نہیں ہے لیکن خطابات میں نظر آتا ہے کہ سائنس کی تصدیق کے بغیر مذھب پر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں