sahil is the online Urdu magazine user can access and read free content on different subjects including philosophy, sociology, political and theology

Sahil Maghzine

جمعرات، 18 جون، 2020

کیا اسلام جمہوری مذہب ہے


The Reconstruction of Religious Thought in Islam



اسلام اور جمہوریت

اقبال لکھتے ہیں کہ جمہوریت کا اصل ماخذ تو اسلام اور احترام خلافت راشدہ ہے جمہوریت کی بنیادیں اس زرین عہد میں تھی اور امیہ اور عباسی اس میں رکاوٹ بن گئے گئے اب مغرب میں جمہوریت پارلیمان کا ظہور ہماری ہی روایت کا ظہور ہے لہذا جمہوریت کا خالق مغرب نہیں اسلام ہے یہ بھی بے بنیاد دعویٰ ہے ہے جمہوریت اور جمہوری عمل کا اسلام سے کیا تعلق خلافت اسلامی سے کیا تعلق موجودہ جمہوریت تو سترویں صدی کے بعد پیدا ہوئی ہے یونان کی جمہوریت بھی موجودہ جمہوریت سے الگ تھی لہذا اسلامی جمہوریت ایک بے معنی اصطلاح شرائط کے سکتے ہیں قرآن بتاتا ہے کہ فرعون کی بھی شریک تھے اور ملکہ سبا کی بھی شرط تھی جب حضرت سلیمان کا خط ملا طالبان نے اپنی شوریٰ سے مشورہ کیا میں نے فرعون کو للکارا تو اس نے بھی شوریٰ سے مشورہ کیا اور اس کی شوریٰ کے ایک رکن نے حضرت موسی کے حق میں بہت سی کلمہ تے خیر کہے ہے اور فرعون کو انتباہ کیا تو شرائط نظام استبداد اور آمریت میں بھی رہتی ہیں ملکیت میں بھی ہوتی ہے اور خلافت میں بھی ملتی ہے ہے مغرب کا یہ تصور ملکیت خلافت آمریت میں کوئی مشورہ نہیں کیا جاتا تھا فرد واحد حکومت کرتا تھا محض فریب نظر ہے اگر میں بھی اقتدار کیا عوامی نمائندوں کے پاس ہوتا ہے یہ بھی محض فریب نظر ہے اگر تو ان لوگوں کے پاس ہوتا ہے جو پارلیمنٹ میں موجود نہیں ہوتے کتے یہ اقتدار نوکری شاہی کے پاس ہے تمام قوانین وہی تیار کرتے ہیں جمہوری نمائندے ان پر صرف دستخط کرتے ہیں اکثر کو یہ بھی نہیں معلوم ہوتا کہ وہ کس مسودے پر دستخط کر رہے ہیں ہیں یہ کہنا کہ اسلام اور خلافت کا نظام خالد جمہوری ہے تاریخ اسلام کے لئے اجنبی تصور ہے

اب دیکھئے حضرت ابوبکر کی خلافت کا اعلان پہلے کیا گیا بیعت بعد میں ہوئی خلیفہ تو انہیں مقرر کر دیا گیا ہم نے نہیں بلکہ ارباب حل وعقد نے کیا یہ کون لوگ تھے کیا یہ منتخب ہوئے تھے۔
کیا رسول اللہ نے انہیں خلافت کے فیصلے کا اختیار دیا تھا عہد رسالت میں یہی لوگ رسالت مآب کے قریب تھے لہذا یہی فطری قائدین تھے ان کو جمہور سے توثیق و تصدیق کی ضرورت نہ تھی ان کی حیثیت کی اہمیت، حیثیت سے بخوبی واقف تھے تھے لہذا کوئی مزاحمت نہ ہوئی۔ہر کسی کو خلافت کے فیصلے میں نہ تو شریک کیا جاسکتا تھا نہ شریک کرنے کی ضرورت تھی کا فیصلہ ارباب حل و عقد کریں گے یا ہر ایک سے پوچھا جائے گا قرآن کریم میں واضح ہدایت دیتا ہے جس سے جمہوریت کے فلسفہ عوام کی نفی ہوتی ہے ہے۔

قرآن حبل اللہ کے مقابلے پر حبل الناس کی اصطلاح استعمال کرتا ہے ۔اور یہودیوں کے ذکر میں اس اصطلاح کا خاص محل یہ ہے کہ ہمیشہ قبل الناس کے ذریعے سامان زندگی مہیا کریں گے اور قیامت تک سہارے کے بغیر دنیا میں کبھی قیام نہ کر سکیں گے۔خلافت عام آدمی کا مسئلہ ہی نہیں تھا تھا حضرت ابوبکر نے اپنی زندگی میں حضرت عمر کو خلیفہ نامزد کر دیا تھا اس کا جمہوریت سے کیا تعلق تھا یہ تو نہ اسداللہ آمریت تھی حضرت عمر نے خلافت کے لیے ایک مجلس قائم کردیں یعنی امت میں سے صرف چند لوگوں کے لیے خلافت کو مخصوص کر دیا۔اور اس کے انتخاب کی بھی ذمہ داری محدود کردی یہ کیا جمہوریت تھی۔حضرت عثمان کی شہادت کے بعد حضرت علی خلیفہ مقرر ہوئے تو جمہوریت کا اس میں کیا عمل دخل تھا حضرت علی اور معاویہ میں خون عثمان پر اختلافات ہوئے نوبت جھنگ تک آگئی تو مسلہ جمہوریت سے حل نہیں ہوا بلکہ دونوں اصحاب کرام نے حکم مقرر فرمائی اور ان کو فیصلے کا اختیار دیا۔اتنے بڑے مسئلے کا حل صرف دو افراد کے سپرد کر دیا گیا کہ یہ دونوں جو کچھ دے کر دی وہ فریقین کے لئے واجب التعمیل ہوگا۔اتنے اہم مسئلے میں عوام سے کوئی رائے لی گئی کیا؟خوارج اسی بنیاد پر تو الگ ہوئے کے حکم کی تقرری کہہ رہا نی ہے پھر قرآن کے ان دعویداروں نے جو کچھ کیا تاریخ کے اوراق خون سے تر بہ تر ہیں۔

حضرت ابوبکر نے لشکر اسامہ کی قیادت میں روانہ کیا سب کا اختلاف تھا آپ نے کسی اختلاف کو اہمیت نہ دی اور فرمایا رسول اللہ کا حکم ہے موخر نہیں ہوسکتا اور خالد بن ولید کی موجودگی میں اسامہ کو سردارلشکر برقرار رکھنے میں کوئی تردد محسوس نہ کیا حکمکم رسول یہی ہے۔

مرتدین اور منکرین زکوٰۃ کے مسئلے میں تمام صحابہ کی رائے مختلف تھی لیکن حضرت ابو بکر اپنی رائے پر قائم رہے یہ کونسی جگہوں ریت تھی ہمیں تو اس میں کہیں مغربی جمہوریت نظر نہیں آتی ۔اور اسلامی جمہوریت تو تو کوئی چیز ہی نہیں ہے معلوم نہیں اقبال مرحوم کو اسلام کی روح میں یہ جمہوریت کہاں نظر آگئی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں